Rain in Dinga City September 2012

It was nice heavy rain in Dinga City on 3rd and 4th September 2012. Famous Journalist of Dinga Mr. Saleem Abid has taken some picture of different parts of the city, mostly roads. Take a look at these pictures of Dinga after rain. It was like a flood in Dinga.

MNA and Federal minister Qamar zman kaira k halqy ka haal

In Pictures – Snowfall in Dinga

Yesterday on 6th January it was first rain of 2012 in Dinga. It was very heavy rain with snowfall. You can see that in pictures.

Dinga Railway Station Pictures

Trains are a good source of transportation from Dinga to other cities. This Railwaystation exist from the time of British empire in Sub Continent. The railway station exist between cities of Lala Musa and Mandi baha ud Din. Here are few photos of Railway station and platform. (Shoot by : Usman Ali)

Dinga Park Wide Angle Photograph

During my last visit to Dinga I took this photograph then I edited it a little bit in Photoshop and now presenting to you. I hope you will like it. I already published it at Facebook but it is not possible for Facebook users to see it in high resolution so I am publishing it here. Because this photo deserve to be seen in Full Resolution. Click on the photo to see it full size. It will open in your browser window and will take a little time to download.

Park in Dinga

ڈنگہ کے سیم نالہ میں دو افراد ڈوب گئے

Saim-Nala

Saim-Nala

ڈنگہ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، آج چھبیس اگست کو دو باپ بیٹی ڈنگہ کے سیم نالہ میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے ڈنگہ کا سیم نالہ نہ صرف پانی سے بھرا ہوا ہے بلکہ پانی کناروں سے باہر آ کر قریبی محلے تک پھیلا ہوا ہے۔ دونوں باپ بیٹی جانوروں کا چارہ لینے سیم نالہ کی ایک طرف بنی ہوئی کم چوڑائی کی سڑک پر جا رہے تھے یہ سڑک محلہ رام باغ کو منڈی بہاولدین روڈ سے جوڑتی ہے۔

اپ ڈیٹ ستائس اگست:
اس سڑک کے ایک مقام پر کم چوڑائی کا ایک پل ہے جسے لوگ سیم نالہ پار کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پانی کی زیادتی کی وجہ سے پل کی سطح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔مرد جس کا نام صوبے خان تھا نے پل پر پیر رکھا تو وہ صحیح طرح اندازہ نہیں کر پایا کہ پل کی سطح کہاں ہے اور وہ سیم کے پانے میں جا گرا۔ اس کی بیٹی جس کا نام کوثر بتایا گیا ہے اور وہ مطلقہ اور ایک عدد بیٹی کی ماں بھی تھی نے اس کےپیچھے چھلانگ لگائی تا کہ اپنے باپ کو باہر نکال سکے مگر وہ بھی پانی میں غوطے کھانے لگی، دور کھڑے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھنے کے بعد اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں دم گھٹ جانے کے باعث وہ اپنی جان گنوا بیٹھی تھی۔ بیٹی کی لاش سیم نالہ سے مل چکی ہے تاہم باپ کی لاش اگلے دن ملی جو کے پل کے اندر ہی پھنسی ہوئی تھی ۔ دونوں کا جنازہ آج ستائیس اگست کو پڑھایا جا چکا ہے۔
کچھ افراد کے مطابق وہ روزانہ جانوروں کا چارہ لینے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد اہل ڈنگہ غمگین ہیں اور ان کی بخشش کے لیے دعا میں مشغول ہیں۔

جہاں پورے ملک پاکستان میں سیلاب نے پندرہ سو سے زیادہ شہریوں کی جانیں لی ہیں اور بیس ملین سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے وہیں دو بڑے دریاؤں یعنی جہلم اور چناب کے درمیان واقع ہونے کے باوجود ڈنگہ شہر ابھی تک سیلاب کی آفت سے بچا ہوا تھا۔تاہم ان دو افراد کے جان سے ہاتھ دھونے کے بعد پورے پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد میں ڈنگہ کے دو افراد کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔

نوٹ : یہ خبر کسی اخبار یا جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ میرے ذاتی سورسز سے مجھے پتہ چلی۔

How to Donate for flood victims (via Yasir Imran Mirza)

Please spread this link.

How to Donate for flood victims I have already published Donation links for a few Pakistani Organizations who are working for needy people. PIMA (Pakistan Islamic Medical Association) is another Pakistani Organization who is working in flooded areas Khyber-Pakhtunkhwa and Baluchistan. Pakistan is facing the worst calamity of its history. Floods have hit almost every part of the country. The worst affected area is Khyber Pakhtoonkhwah province. PIMA had already started its relie … Read More

via Yasir Imran Mirza

Kolian Shah Hussain Pictures

I visited Kolian village during my vacation in November 2009. We went to Mian Arif saab’s house, He is my high school teacher and a good friend of my father. I took these pictures beside their houses.

Fawara Chowk

فوارہ چوک ایک رکشہ سٹینڈ اور کچرا گھر کے روپ میں

آج سے بہت سال پہلے فوارہ چوک کی بنیاد رکھی گئی ایک چھوٹی سے تکون نما چاردیواری بنا کر جگہ مختص کی گئی جس کے اندر ایک پانی کا فوارہ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، چونکہ بذریعہ جی ٹی روڈ کھاریاں سے آتے ہوے یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ایک سڑک ڈنگہ شہر کے اندر چلی جاتی ہے جبکہ دوسری شہر کی ایک طرف سے ہوتی ہوئی چلیانوالہ ، رسول اور منڈی بہاولدین کی طرف چلی جاتی ہے اس لیے فوارہ لگانے کا مقصد یہ تھا کہ شہر کے داخلی مقام کو خوبصورت بنایا جائے لیکن چار دیواری تو بن گئی مگر آج تک یہ جگہ ایک عدد فوارے کا انتظار کر رہی ہے۔ شہر کے منچلوں نے اسے کچرا ڈالنے، بینر اور اشتہار لگانے، موٹر سائیکل اور سائیکل پارک کرنے کے لیے استعمال کیا ہوا ہے اور جب سے چنگ چی موٹر سائیکل رکشہ آیا ہے یہ جگہ رکشہ سٹینڈ کے طور پر بھی استعمال ہو رہی ہے،


Park in Dinga

This is the only park in Dinga. Kids enjoy playing here but some time naughty boys wondering inside so it will not be a nice place for families.

Few Old Buildings

These buildings are constructed from the time before partition. Now they are not in good condition but still few people got their ownership, no government official declared it as government property.