Ye Mera Dinga Shehar or hamari be Hisi

یہ میرا ڈنگہ شہر اور ہماری بے حسی

ڈنگہ صوبہ پنجاب کا ایک غیر معروف اور ضلع گجرات کا ایک معروف مگر چھوٹا شہر ہے، لیکن اپنے محل وقوع کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ ارد گرد ایک سو سے زیادہ دیہات کے لیے ڈنگہ ایک منڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اگر ہم ڈنگہ کا تفصیلا جائزہ لیں تو ایک بڑے شہر کی بیشتر سہولیات موجود ہیں جن میں گرلز اور بوائز ڈگری کالج، ٹیلی فون ایکسچینچ، تمام موبائل کمپنوں کے بوسٹرز ، بہت بڑی غلہ منڈی ، کپڑوں کی بہت بڑی مارکیٹ، اشیا خردونوش کی مارکیٹ اور ہسپتال وغیرہ شامل ہے۔

ڈنگہ کے بازار میں ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہے۔ آس پاس کے دیہات کے بیشتر چھوٹے بڑے دکانداراور عام صارفین تقریبا ہر روز ڈنگہ کا رخ کرتے ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ڈنگہ کو بہت ساری سڑکیں دوسرے شہروں سے ملاتی ہیں، یوں آنا جانا اورخریدا ہوا سامان دیہاتوں میں لے کر جانا بہت آسان ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں سے ڈنگہ میں جو تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، اور اس مہنگائی کا کوئی پہمانہ مقرر نہیں، جو چاہتا ہے جتنا چاہتا ہے کسی بھی چیز کا ریٹ مقرر کر لیتا ہے۔ یوں تو مہنگائی کا مسلہ پورے پاکستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کو درپیش ہے مگر جب ہم ڈنگہ کی مہنگائی کا موازنہ دوسرے شہروں سے کریں تو ہمیں واضح فرق محسوس ہو گا، ڈنگہ میں خریداری کرنے والے افراد چونکہ کم پڑھے لکھے اور کم جاننے والے ہیں دوسرا وہ بڑے شہروں میں اشیا کی قیمتوں کا ادراک بھی نہیں رکھتے، اس لاعلمی کا فائدہ ڈنگہ کے دکاندار خوب اٹھاتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ڈنگہ میں ہم مہنگائی بہت اونچے تناسب میں ہے۔

گجرات ، منڈی بہاولدین، گجرانوالہ، جہلم اور لاہور، ڈنگہ میں اشیا کی قیمتیں ان سب شہروں سے زیادہ ہیں، میں تو اسے پنجاب کا پیرس کہوں گی۔ نہ صرف کھانے پینے کی اشیا، سبزی پھل بلکہ ادوایات، سکولوں کی فیس، پراپرٹی اور زمینوں کی قیمتیں سب کچھ ایک عام آدمی کی پہنچ سے باھر ہو چکا ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سب سے بڑا علمیہ تو یہ ہے کہ تاجروں کی من مانیوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا،  کاروباری افراد میں پیسے کی حوس اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انہں عام آدمی کا احساس ہی نہیں ،اور عام آدمی بھی کان لپیٹے  جو جیسا ہے اس پر گزارہ کر رہا ہے۔ شہرکی انتظامیہ اور ضلعی مجسٹریٹ بھی خاموش ہیں۔ یہ لوگ کیوں اتنے بے حس ہو چکے ہیں، ایسی ہی صورت حال کے لیے اقبال نے فرمایا

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

کیا یہ ہم سب کے لیے سوچنے کا مقام نہیں، کہ ہم کدھر جا رہے ہیں، کیا ہمیں اللہ کی بے آواز لاٹھی سے بھی ڈر نہیں لگتا، ڈنگہ میں اور ارد گرد کے علاقوں میں پورا ساون گزر جانے کے باوجود کھل کر اللہ کی رحمت نہیں برسی، کہیں یہ اس بات کا اشارہ تو نہیں کہ اللہ کی لاٹھی ہمارے سروں پرآ پہنچی ہے، ،دھرتی اس رحمت کے لیے پیاسی ہو چکی ہے، صرف اس وجہ سے کہ ہم ظلم سہہ کر بھی چپ ہیں۔ ظلم کرنے والا تو پہلے ہی اللہ کے عذاب کا مستحق ٹہرا، خاموشی سے ظلم سہنے والے بھی گنہگار ہے۔ ہمیں تاجروں کو ان کی زیاتیوں اور ناجائز منافع کا احساس دلانا ہو گا، اس سے پہلے کہ ہم اللہ کے مزید غضب کو دعوت دیں ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s