عید الفطر مبارک

تمام مسلمانوں کو عید کا خوبصورت دن مبارک۔ عید کے اس دن پر اپنے ان پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو مت بھولیں جو سیلاب کی آفتوں سے اپنا گھر بار اور اپنے پیارے کھو چکے ہیں۔ اللہ آپ سب کو عید کی خوشیاں نصیب فرمائے اور اپنی رحمتوں کا سایہ تمام مسلمانوں کو عطا کرے ۔ آمین

Eid Mubarak

Eid-Mubarak-Pakistan

Eid-Mubarak-Pakistan

Advertisements

ڈنگہ کے سیم نالہ میں دو افراد ڈوب گئے

Saim-Nala

Saim-Nala

ڈنگہ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، آج چھبیس اگست کو دو باپ بیٹی ڈنگہ کے سیم نالہ میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے ڈنگہ کا سیم نالہ نہ صرف پانی سے بھرا ہوا ہے بلکہ پانی کناروں سے باہر آ کر قریبی محلے تک پھیلا ہوا ہے۔ دونوں باپ بیٹی جانوروں کا چارہ لینے سیم نالہ کی ایک طرف بنی ہوئی کم چوڑائی کی سڑک پر جا رہے تھے یہ سڑک محلہ رام باغ کو منڈی بہاولدین روڈ سے جوڑتی ہے۔

اپ ڈیٹ ستائس اگست:
اس سڑک کے ایک مقام پر کم چوڑائی کا ایک پل ہے جسے لوگ سیم نالہ پار کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پانی کی زیادتی کی وجہ سے پل کی سطح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔مرد جس کا نام صوبے خان تھا نے پل پر پیر رکھا تو وہ صحیح طرح اندازہ نہیں کر پایا کہ پل کی سطح کہاں ہے اور وہ سیم کے پانے میں جا گرا۔ اس کی بیٹی جس کا نام کوثر بتایا گیا ہے اور وہ مطلقہ اور ایک عدد بیٹی کی ماں بھی تھی نے اس کےپیچھے چھلانگ لگائی تا کہ اپنے باپ کو باہر نکال سکے مگر وہ بھی پانی میں غوطے کھانے لگی، دور کھڑے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھنے کے بعد اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں دم گھٹ جانے کے باعث وہ اپنی جان گنوا بیٹھی تھی۔ بیٹی کی لاش سیم نالہ سے مل چکی ہے تاہم باپ کی لاش اگلے دن ملی جو کے پل کے اندر ہی پھنسی ہوئی تھی ۔ دونوں کا جنازہ آج ستائیس اگست کو پڑھایا جا چکا ہے۔
کچھ افراد کے مطابق وہ روزانہ جانوروں کا چارہ لینے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد اہل ڈنگہ غمگین ہیں اور ان کی بخشش کے لیے دعا میں مشغول ہیں۔

جہاں پورے ملک پاکستان میں سیلاب نے پندرہ سو سے زیادہ شہریوں کی جانیں لی ہیں اور بیس ملین سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے وہیں دو بڑے دریاؤں یعنی جہلم اور چناب کے درمیان واقع ہونے کے باوجود ڈنگہ شہر ابھی تک سیلاب کی آفت سے بچا ہوا تھا۔تاہم ان دو افراد کے جان سے ہاتھ دھونے کے بعد پورے پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد میں ڈنگہ کے دو افراد کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔

نوٹ : یہ خبر کسی اخبار یا جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ میرے ذاتی سورسز سے مجھے پتہ چلی۔