Dinga City Flood Photos

We already published few photos of Dinga Flood and Visit of Mian Amjad. Now below are more pictures of Dinga City during rainy season and heavy floods. Take a look below.

Heavy Rains and Flood Water in Dinga

ڈنگہ میں شدید بارش اور سیلاب سے گلیاں پانی سے بھر گئیں

ستمبر 5، 2014 ڈنگہ میں گزشتہ تین چار دنوں سے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، نہ صرف ڈنگہ بلکہ پورے پنجاب میں شدید بارش نے گلیوں اور سڑکوں کو سیلابی پانی سے بھر دیا ہے، زرعی زمینیں زیر آب آ گئی ہیں اور زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ تمام عوام اللہ تعالی سے دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالی رحم اور مہربانی کرے اور شدید بارشوں کو روک دے، نیچے ڈنگہ کی چند تصاویر دی گئی ہیں

ملک ریاض کی طرف سے سیلاب زدگان کے لیے دو ارب ڈالر

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے ماہ رمضان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپنی کل جائیداد کا پچھتر فیصد عطیہ دینے کا اعلان کیا جو دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا اساسہ ہو گا. میں نے اپنی زندگی میں اتنی بڑی امداد کا پہلی مرتبہ سنا ہے. ملک ریاض نہ یہ بات سی این این پر اپنے انٹرویو کے دوران کہی. جس پر میزبان نے ان سے دوبارہ پوچھا تو ملک صاحب نے کہا، اس سے بھی زیادہ دینے کا ارادہ ہے. ملک ریاض نے پاکستان میں 140 امیر ترین افراد سے کہا ہے کہ وہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی امداد کے لیے آگے آئیں. ملک ریاض نے یہ بھی کہا کہ عالمی اداروں نے کلی طور پر پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا لیکن میں اس کے دو گنا سے بھی زیادہ رقم دینے کا ارادہ رکھتا ہوں .

یہ خبر ایکسپریس نیوز پر چھپی، مجھے بھی پہلے اس پر یقین نہیں ہوا، اگر تو یہ خبر سچی ہو تو مجھے یہ گمان گزر رہا ہے کہ ملک ریاض نے ماہ رمضان میں جنت خرید لی ہے. اس رقم کا اس سے اچھا مصرف ہو ہی نہیں سکتا تھا…

ملک صاحب کو ایک تجویز یہ بھی ہے کہ وہ اس رقم کو خود خرچ کریں اور پاکستان میں بے گھر لوگوں کو گھر بنا کر دیں، کیوں کہ بحریہ ٹاون کا تجربہ ان کے ساتھ ہے.

Continue reading

ڈنگہ کے سیم نالہ میں دو افراد ڈوب گئے

Saim-Nala

Saim-Nala

ڈنگہ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، آج چھبیس اگست کو دو باپ بیٹی ڈنگہ کے سیم نالہ میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے ڈنگہ کا سیم نالہ نہ صرف پانی سے بھرا ہوا ہے بلکہ پانی کناروں سے باہر آ کر قریبی محلے تک پھیلا ہوا ہے۔ دونوں باپ بیٹی جانوروں کا چارہ لینے سیم نالہ کی ایک طرف بنی ہوئی کم چوڑائی کی سڑک پر جا رہے تھے یہ سڑک محلہ رام باغ کو منڈی بہاولدین روڈ سے جوڑتی ہے۔

اپ ڈیٹ ستائس اگست:
اس سڑک کے ایک مقام پر کم چوڑائی کا ایک پل ہے جسے لوگ سیم نالہ پار کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پانی کی زیادتی کی وجہ سے پل کی سطح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔مرد جس کا نام صوبے خان تھا نے پل پر پیر رکھا تو وہ صحیح طرح اندازہ نہیں کر پایا کہ پل کی سطح کہاں ہے اور وہ سیم کے پانے میں جا گرا۔ اس کی بیٹی جس کا نام کوثر بتایا گیا ہے اور وہ مطلقہ اور ایک عدد بیٹی کی ماں بھی تھی نے اس کےپیچھے چھلانگ لگائی تا کہ اپنے باپ کو باہر نکال سکے مگر وہ بھی پانی میں غوطے کھانے لگی، دور کھڑے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھنے کے بعد اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں دم گھٹ جانے کے باعث وہ اپنی جان گنوا بیٹھی تھی۔ بیٹی کی لاش سیم نالہ سے مل چکی ہے تاہم باپ کی لاش اگلے دن ملی جو کے پل کے اندر ہی پھنسی ہوئی تھی ۔ دونوں کا جنازہ آج ستائیس اگست کو پڑھایا جا چکا ہے۔
کچھ افراد کے مطابق وہ روزانہ جانوروں کا چارہ لینے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد اہل ڈنگہ غمگین ہیں اور ان کی بخشش کے لیے دعا میں مشغول ہیں۔

جہاں پورے ملک پاکستان میں سیلاب نے پندرہ سو سے زیادہ شہریوں کی جانیں لی ہیں اور بیس ملین سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے وہیں دو بڑے دریاؤں یعنی جہلم اور چناب کے درمیان واقع ہونے کے باوجود ڈنگہ شہر ابھی تک سیلاب کی آفت سے بچا ہوا تھا۔تاہم ان دو افراد کے جان سے ہاتھ دھونے کے بعد پورے پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد میں ڈنگہ کے دو افراد کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔

نوٹ : یہ خبر کسی اخبار یا جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ میرے ذاتی سورسز سے مجھے پتہ چلی۔