Heavy Rains and Flood Water in Dinga

ڈنگہ میں شدید بارش اور سیلاب سے گلیاں پانی سے بھر گئیں

ستمبر 5، 2014 ڈنگہ میں گزشتہ تین چار دنوں سے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، نہ صرف ڈنگہ بلکہ پورے پنجاب میں شدید بارش نے گلیوں اور سڑکوں کو سیلابی پانی سے بھر دیا ہے، زرعی زمینیں زیر آب آ گئی ہیں اور زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ تمام عوام اللہ تعالی سے دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالی رحم اور مہربانی کرے اور شدید بارشوں کو روک دے، نیچے ڈنگہ کی چند تصاویر دی گئی ہیں

In Pictures – Snowfall in Dinga

Yesterday on 6th January it was first rain of 2012 in Dinga. It was very heavy rain with snowfall. You can see that in pictures.

عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیں

میں عمران خان کا ووٹر ہوں

موجودہ سیاستدانوں اور حکومت نے  پچھلے چار سالوں میں  عوام  کو غربت،  مہنگائی، کرپشن، ڈرون حملوں،خود کش دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور امریکی غلامی کے سوا کیا دیا ہے ؟ ملک میں امن و امان کی صورت حال دگرگوں ہے۔ معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچی ہوئی ہے۔ بیرونی قرضوں کا بوجھ پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر ایک بچے کے سر پر ہے۔ اس کے باوجود سیاستدانوں اور حکومت کے افسران کی عیاشیاں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ پاکستان جو کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ایک امیر ملک ہے۔ جس کے کوئلے کے ذخائر سعودی عرب کے تیل کے ذخائر سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ ذخائر آئندہ  پانچ سو سال کے لیے دو پاکستانوں کے برابر بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔پاکستان میں کئی کھرب ڈالر کا تانبا اور سونا موجود ہے جسے بیچ کر ہم نہ صرف اپنے قرضے چکا سکتے ہیں دیگر غریب ممالک کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہم صرف اپنی گوادر کی بندر گاہ کو کیش کر کے اپنے آپ کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔ گوادر کی بندر گاہ ایسی بندر گاہ ہے جس میں نہ صرف افغانستان،وسطی ایشائی ممالک اور چین بھی دلچسپی رکھ سکتا ہے بلکہ  مشرق وسطی کے ممالک بھی اس بندر گاہ سے اپنا تیل چین تک پہنچا سکتےہیں۔

تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان تمام قدرتی وسائل کو استعمال نہیں کیا جا رہا بلکہ عوام کو بجلی کی کمی پیدا کر کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے تا کہ وہ حکومتی کرپشن پر انگلی نہ اٹھا سکیں بلکہ آٹا، بجلی ، دال اور پانی کے چکر سے ہی نہ نکلیں۔ یہی حکمران کشمیر میں  بھارت کی طرف سے پے درپے ڈیموں کی تعمیر پر بھی خاموش ہیں۔ ان کی یہ خاموشی مستقبل کے سالوں میں صوبہ پنجاب کو بنجر بنا سکتی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں یہی قیادت اگلے پانچ سال کے لیے پاکستان کے حق میں بہتر ہو سکتی ہے ؟

جو فقط اپنی عیاشی سے فرصت نہیں پا رہے۔ کیا ان کو پاکستان کی ذرا سے بھی فکر ہے ؟

فقط عمران خان ایک ایسا انسان ہے جو ان مسائل پر بات کرتا ہے، جو پاکستان کو بہتر بنانے، پاکستان کے قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کی بات کرتا ہے، جو امریکہ کی غلامی سے نجات اور ڈرون حملوں کی خلاصی کی بات کرتا ہے۔ تو پھر کیوں نہ ہم ایسے مخلص انسان کو سپورٹ کریں اور اگلے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو ہی ووٹ دیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالی عمران خان کو پاکستان کے مسائل ختم کر کے اسے ایک خوشحال ملک بنانے کی توفیق دے، آمین

Dinga Photo Contest #2 on Facebook

Dinga Photo Contest 2 is just started at  Dinga’s official page at Facebook. Anyone can shot a picture of any part of Dinga City and can submit it to contest. Photos has to be submitted until 31st July 2011. Winner will get a surprise gift from Dinga page administration.

For detail please check the brochure below.

Dinga Facebook Page Photo Contest 2011

Dinga Facebook Page Administrators

 

 

 

 

ملک ریاض کی طرف سے سیلاب زدگان کے لیے دو ارب ڈالر

بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے ماہ رمضان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپنی کل جائیداد کا پچھتر فیصد عطیہ دینے کا اعلان کیا جو دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا اساسہ ہو گا. میں نے اپنی زندگی میں اتنی بڑی امداد کا پہلی مرتبہ سنا ہے. ملک ریاض نہ یہ بات سی این این پر اپنے انٹرویو کے دوران کہی. جس پر میزبان نے ان سے دوبارہ پوچھا تو ملک صاحب نے کہا، اس سے بھی زیادہ دینے کا ارادہ ہے. ملک ریاض نے پاکستان میں 140 امیر ترین افراد سے کہا ہے کہ وہ اپنے پاکستانی بھائیوں کی امداد کے لیے آگے آئیں. ملک ریاض نے یہ بھی کہا کہ عالمی اداروں نے کلی طور پر پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا لیکن میں اس کے دو گنا سے بھی زیادہ رقم دینے کا ارادہ رکھتا ہوں .

یہ خبر ایکسپریس نیوز پر چھپی، مجھے بھی پہلے اس پر یقین نہیں ہوا، اگر تو یہ خبر سچی ہو تو مجھے یہ گمان گزر رہا ہے کہ ملک ریاض نے ماہ رمضان میں جنت خرید لی ہے. اس رقم کا اس سے اچھا مصرف ہو ہی نہیں سکتا تھا…

ملک صاحب کو ایک تجویز یہ بھی ہے کہ وہ اس رقم کو خود خرچ کریں اور پاکستان میں بے گھر لوگوں کو گھر بنا کر دیں، کیوں کہ بحریہ ٹاون کا تجربہ ان کے ساتھ ہے.

Continue reading

ڈنگہ کے سیم نالہ میں دو افراد ڈوب گئے

Saim-Nala

Saim-Nala

ڈنگہ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، آج چھبیس اگست کو دو باپ بیٹی ڈنگہ کے سیم نالہ میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے ڈنگہ کا سیم نالہ نہ صرف پانی سے بھرا ہوا ہے بلکہ پانی کناروں سے باہر آ کر قریبی محلے تک پھیلا ہوا ہے۔ دونوں باپ بیٹی جانوروں کا چارہ لینے سیم نالہ کی ایک طرف بنی ہوئی کم چوڑائی کی سڑک پر جا رہے تھے یہ سڑک محلہ رام باغ کو منڈی بہاولدین روڈ سے جوڑتی ہے۔

اپ ڈیٹ ستائس اگست:
اس سڑک کے ایک مقام پر کم چوڑائی کا ایک پل ہے جسے لوگ سیم نالہ پار کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں، لیکن پانی کی زیادتی کی وجہ سے پل کی سطح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔مرد جس کا نام صوبے خان تھا نے پل پر پیر رکھا تو وہ صحیح طرح اندازہ نہیں کر پایا کہ پل کی سطح کہاں ہے اور وہ سیم کے پانے میں جا گرا۔ اس کی بیٹی جس کا نام کوثر بتایا گیا ہے اور وہ مطلقہ اور ایک عدد بیٹی کی ماں بھی تھی نے اس کےپیچھے چھلانگ لگائی تا کہ اپنے باپ کو باہر نکال سکے مگر وہ بھی پانی میں غوطے کھانے لگی، دور کھڑے کچھ لوگوں نے یہ منظر دیکھنے کے بعد اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں دم گھٹ جانے کے باعث وہ اپنی جان گنوا بیٹھی تھی۔ بیٹی کی لاش سیم نالہ سے مل چکی ہے تاہم باپ کی لاش اگلے دن ملی جو کے پل کے اندر ہی پھنسی ہوئی تھی ۔ دونوں کا جنازہ آج ستائیس اگست کو پڑھایا جا چکا ہے۔
کچھ افراد کے مطابق وہ روزانہ جانوروں کا چارہ لینے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد اہل ڈنگہ غمگین ہیں اور ان کی بخشش کے لیے دعا میں مشغول ہیں۔

جہاں پورے ملک پاکستان میں سیلاب نے پندرہ سو سے زیادہ شہریوں کی جانیں لی ہیں اور بیس ملین سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے وہیں دو بڑے دریاؤں یعنی جہلم اور چناب کے درمیان واقع ہونے کے باوجود ڈنگہ شہر ابھی تک سیلاب کی آفت سے بچا ہوا تھا۔تاہم ان دو افراد کے جان سے ہاتھ دھونے کے بعد پورے پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد میں ڈنگہ کے دو افراد کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔

نوٹ : یہ خبر کسی اخبار یا جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ میرے ذاتی سورسز سے مجھے پتہ چلی۔